"آج صبح، میرے ایڈیٹر نے مجھ سے پوچھا: 'یہ آخری رپورٹ کیوں؟' میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ کیونکہ سچ تو یہ ہے کہ ہم صحافی جواب دینے سے زیادہ سوال پوچھتے ہیں۔ لیکن آج میں جواب دوں گا۔"
"میرے استاد نے مجھے پہلے دن بتایا تھا: 'صحافت آئینے کی طرح ہوتی ہے، بغیر رنگ کے، بغیر جھکاؤ کے۔' لیکن آج کل آئینے بھی اپنی مرضی سے کاٹے جاتے ہیں۔"
"کیونکہ میں تھک گیا ہوں… تھک گیا ہوں جھوٹ کو سچ بناتے دیکھ کر، اور سچ کو قربان ہوتے۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ایک بے گناہ شخص جیل میں سڑتا ہے، اور مجرم سڑکوں پر آزاد گھومتا ہے۔ میں نے دیکھا کہ ایک ماں کے آنسو خبروں کی زینت بنتے ہیں، اور پھر اگلے دن کوئی اُنہیں یاد نہیں رکھتا۔" monologue script in urdu
"نہیں… میں نے طے کیا ہے کہ آج کوئی کاغذ نہیں پڑھوں گا۔ آج میں اپنی آنکھوں سے جو دیکھا، اپنے کانوں سے جو سنا، اور اپنی روح میں جو محسوس کیا… وہ کہہ دوں گا۔"
"دیکھیں، میں نے اپنی زندگی کے تیس سال اس کام میں لگا دیے۔ تیس سال… سوچیے، ہر صبح ایک نیا جرم، ہر رات ایک نیا سانحہ۔ میں نے قتل گاہوں سے لے کر اقتدار کی بلندیوں تک کی رپورٹنگ کی ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ قلم سے بھی تلوار سے زیادہ زخم لگتے ہیں۔ اور سب سے بڑا زخم… خاموشی کا ہوتا ہے۔" monologue script in urdu
"یہ میری آخری رپورٹ ہے۔"
"یہ میری آخری رپورٹ ہے، لیکن آخری رپورٹ کا مطلب یہ نہیں کہ سچ مر جاتا ہے۔ سچ تو کبھی نہیں مرتا، اُسے صرف دفن کیا جاتا ہے۔ اور دفن شدہ سچ ایک دن قیامت بنا کر پھوٹ پڑتا ہے۔" monologue script in urdu
"آج میں نے طے کیا ہے کہ اب میں رپورٹ نہیں کروں گا… اب میں فریاد کروں گا۔ ہاں، فریاد! ان لوگوں کی طرف سے جو بول نہیں سکتے، جن کی آواز خبروں میں کٹ جاتی ہے، جن کی کہانی سننے والا کوئی نہیں۔"